Powered By Blogger
Showing posts with label baloch news. Show all posts
Showing posts with label baloch news. Show all posts

Thursday, January 7, 2016

baloch news

بااثر مخالفین نے 40 سالہ شخص کے تانبے کی تار سے ہونٹ سی دیے.
لاہور: زمین کے تنازعہ پر بااثر مخالفین نے انسانیت کو شرمندہ کرتے ہوئے 40 سالہ شخص کے تانبے کی تار سے ہونٹ سی دیے۔
تفصیلات کے مطابق سانگلہ ہل کا رہائشی 40 سالہ عادل رشید زمین کے تنازعہ پر کچھ روز قبل اغوا ہوا تھا جو جمعرات کے روز لاہور کے علاقے نیلا گنبد سے ملا ہے ۔ مقامی لوگوں نے عادل رشید کو دیکھا تو اس کے ہونٹوں کو مکمل طور پر سی دیا گیا تھا اور وہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں تھا۔ مقامی لوگوں نے عادل رشید کو فوری طور پر میو ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹر اسے طبی امداد دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ والدہ کے آنے تک ہونٹ نہیں کھلواو¿ں گا۔
عادل رشید پر انسانیت سوز ظلم ہونے کے باوجود وقوعہ کے سانگلہ ہل میں پیش آنے کے باعث لاہور پولیس کوئی ایکشن نہیں لے رہی ۔

Tuesday, January 5, 2016

baloch news

ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺣﮑﺎﻡ ﻧﮯ " ﮐﺎﻟﯽ ﻣﮑﮭﯽ " ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﯽ ﺩﺱ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﮍ، ﮐﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﭧ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻠﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮫ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﭼﻼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﻣﮑﮭﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﯽ ﺍﻭﺭ ﺍِﺳﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ۔۔۔ !!! ﻟﯿﮑﻦ۔۔۔ﻟﯿﮑﻦ۔۔۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ۔۔۔؟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ۔۔۔؟ ﺍُﺱ ﺳﺎﻝ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﺪﻡ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ، ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﻋﯽ ﺍﯾﮑﺴﭙﺮﭦ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﺎ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﮔﻨﺪﻡ ﮐﮯ ﺳﭩﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﻧﭻ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻣﺮﺟﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻞ ﺳﮍ ﮐﮯ ﮔِﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔۔؟؟؟ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺎﻟﯽ ﻣﮑﮭﯽ ﺍُﻥ ﻣﻀﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎﺯ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮔﻨﺪﻡ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﺍُﮔﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﻣﮑﮭﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍُﻥ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎﺯ ﻧﮯ ﮔﻨﺪﻡ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﺘﺎً ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺪﻡ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ۔ ﺁﺧﺮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﯿﺮﻭﻥِ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﮐﺎﻟﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺍﻣﭙﻮﺭﭦ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮨﻮﺍ۔۔ !! ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻧﮑﻤﺎ ﯾﺎ ﺑﮯﮐﺎﺭ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔ ۔

Friday, January 1, 2016

baloch news

کالم!!!
عصمت_
عنوان_
وادیِ عشق کی کہانی!!!
نادان پرندے گھر آجا!!!!
کِس نے کہا تھا_
چاند کو چاہو_
چاند تھا آخر!!!!
ڈوب گیا_
ناں!!!!
کل میرا پروگرامنگ کا پیپر تھا_
یاد کروں تو کیسے-
اسی سوچ نے مجھ ناکارہ شخص کو سوچنے پر مجبور کیا_
کہ موبائل کی گھنٹی نے سرگوشی کی-
کہنے والا کہنے لگا , یار ہم تو بس -
آگے مت پوچھو!!!
بتاؤ نہ !!
میں پوچھ بیٹھا_
جب آؤ گے تب بتاؤں گا نہ!!!
موبائل بند ہوتے ہی میرا سر چکرانے لگا-
نجانے کیا ہوا-
کتاب رکھتے ہی ہم سوچتے سوچتے خوابِ خرگوش میں چلا گیا_
صبح اٹھتے ہی دُھند نے انگ انگ میں گرمی پیدا کر دی تھی-
سب سے پہلے سردی سے ہم کلام
ہوۓ-
دُھند میں لپیٹے خود کو_دسمبر کو بددعائیں دیتے_چل پڑے
یونیورسٹی_پھر مِڈ کا آخری پیپر دیا
اور دُھند میں لپٹی شہرِپردیس کو
چھوڑ کر ہم نے دیس کی
طرف راہ ِ فرار اختیار کیا_
شام ڈھلتے ہی ایک بار پھر یادوں نے گھیراؤ کیا مجھ بدنصیب کا_
اُسی شب چاند نے عین ہمارے گھر کے اوپر پڑاؤ ڈالا_
ہم نے بھی جمائ لی اور نیند کو گلے لگایا_
صبح ہوتے ہی چاند شرماتے ہوۓ دھیرے دھیرے _ میرے سامنے سے گزرتے ہوۓ کہیں دور جا نکلا_
بعد از نماز چاۓ کی چُسکی سے چُسکی لینے لگا_
کہ اچانک دروازے پر دستک گِراں گزری مجھ پر_
کون ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ آواز سنتے ہی دوست بولا_
یار چاۓ نہیں پینے آۓ_تم باہر تو آؤ ناں-
چلو یار آج اور دوست کے پاس جا کر چاۓ پیتے ہیں_دوست کے پاس پہنچنے پر دوست نے چاۓ پیش کی_
ہم دوست کی کہانی آسکی زبانی سننے لگے-
میں جب تھا بہت چھوٹا_تو نجانے کیسے وادیِ عِشق میں کود پڑا_
وہ گَنا کھاتے ہوۓ بولا_
اور ہم تین دوست اُسکی وادی عشق میں اَشک بہانے میں مصروف تھے-
پھر کیا ہوا-
گَنا ایک طرف رکھتے ہوۓ بولا_
کہ کم عمر تھے ، کم عقل تھے-
پھر بھی-
وہ میری ہمسائ تھی
ناں-بس جب لورالائ سے واپسی ہوئ اُنکی_تو جیسے چاند تھا میرے سامنے_جس نے دن کو تارے دکھا دیۓ-
میری خوش کَلی کا چہرہ نور سے چُور تھا_
خاموش کمرے میں قہقے بلند ہوۓ_
اسی دوران چاۓ بھی پینے لگے ہم_
پر وہ جیسے کسی خواب میں مگن تھا_
اُسکی نظر نے میری نظر میں آکر _ مُجھ کو ہی میری ںظر سے گِرا دیا_
اُس نورِ نظر نے!!!
اُس گُلبدن کی مہک چاروں طرف مہکنے لگی_کروں تو کروں کیسے سواگت اُن کی_
دن پورا انکی یادوں میں گزرا_
رات کو چ چاند کی چاندنی اُفک پر تھی کہ میں اسکی یادوں میں_یادوں سے باتیں کرنے میں مصروف تھا_کل صبح اٹھتے ہی یہ سُننا تھا میرے ہوش حواس آڑ گۓ تھے-
کہ وہ کوئٹہ جارہے ہیں_جیسے دنیا ہی اُجڑ گئ مُجھ ناداں کی_جس نے رانجھا بنایا تھا_اب اسی نے مجنوں کا رنگ چڑھایا_شب کٹ جاتی تھی رونے میں_آہوں میں دن ڈھل جاتا تھا_
جب لوگ سکون سے سوتے ہیں_
دیوانے اُٹھ کر روتے ہیں_
کوئ زلف کی باتیں کرتا
ہے_
کوئ حسنِ یار پہ مرتا
ہے-
آجاؤ ناں_
آدیکھ میں تیری یاد میں پاگل ہوگیا ہوں_کبھی دروازے پہ بیٹھ کر اُن کا انتظار کرتا_
اُنکی واپسی ہوئ تو میں دوبارہ اپنی زندگی میں واپس آیا_
لیکن کسی کو شک تک نہ ہوا کہ میں اپنی زندگی کو_ زندگی میں اُلجھنے جا رہا تھا_
چاۓ کی پیالی سے چسکی لیتے ہوۓ دُکھ بھرے لہجے میں بولا_
پھر ایک دن ملن کی_ وصل کی _اُمید کی_نازُک حسیں ڈوری کولیۓ میں صحن میں بیٹھا تھا_کہ نازُک پُھلجڑی دیوار سے بولی____
I loVe You A____
آئ لو یو A__
اِن الفاظ کا سُننا تھا کہ دوستوں کے ہاتھوں چاۓ گرتے گرتے بچی_
اُس دن میری خوشی دیدنی تھی_
پھر یوں ہوا جاناں _نجانے کیوں ہوا جاناں_
کہ ایک دن ماں کی ممتا اپنے لخت جگر میری جانِ جگر کو لیکر ہمارے گھر آئ ہوئ تھی_اور میں بھر پور نظروں سے اسے گھور رہا تھا_
لیکن جیسے ہی نظر تھی نظر اُٹھی تو نظر نے خونخوار نظروں کو اپنی نظر میں لے لیا_
کہ اسکی ماں میری طرف دیکھ رہی تھی_اُٹھ کر چلا گیا میں وہاں سے_
عشق تھا_کہ ہر طرف ہمارا چرچہ تھا___
دن گزرتے گۓ_دوستی بڑھتی گئ_کبھی آنکھ مچولی_تو کبھی اشاروں میں_مَحبت پروان چڑھتی گئ_
تو کبھی قربت کے بستر پر مہکتا پھول سا چہرہ آنکھیں چھپاتی نظر آتا_
اسی طرح مَحبت میں لمحے بیتتے گۓ_
کہ ایک دن دکان پر بیٹھا تھا میں ساتھ ابو کے____ابو کے موبائل کی گھنٹی نے درِ دل پہ دستک دی__
کل شام میری بیٹی کی منگنی ہے آجاناں_
ابو نے میری طرف دیکھا اور میں اُٹھ کر چلا گیا_زمیں جیسے ہل گئ تھی_
کیونکہ میری مَحبت کسی اور کی ہونے لگی تھی_
اب تو سر افلاک تارے بھی مجھے تڑپتا دیکھ کر رونے لگتے ہیں_
عجب وحشت سی ہوتی ہے_
میری سوچوں کی سُلگتی شاخ سے سب سوکھے پتے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں_
کون ہے اِس جہاں میں سواۓ اُس کے میرا_
دور جانے سے پہلے یہ تو بتا کر جاتی کہ میں سانس کیسے لوں_کِس کیلۓ لوں_کیا میری خوش کلی اب نہیں لوٹ کر آنے والی_ایک آنسو کا قطرہ چہرے کو چیرتے ہوۓ _اُس کے خشک ہونٹوں کو بوسہ دینے لگی_آخر کیوں مجھ ناداں کو سُلگتے ہوۓ چنگاریوں میں چھوڑ گئ_ارے او بے وفا میرا قصور تو بتا نہ_
خشک صحرا میں دفن کرگئ وہ مجھ کو_
یار عصمت کیسے سنبھالوں خود کو_
اُسے کیسے چھین کر
لاؤں_
وہ میری تھی-
میری ہے- اب زندگی گُم نام سے راستوں پہ رواں ہے_تنہائ تنہا میرا ساتھ دے رہا ہے_شام ڈھلے شال اوڑھے _
نجانے گھر سے میں کتنا دور نکل جاتا ہوں_
کیونکہ مَحبت کہیں تاج محل بن کر کھڑا مُسکرا رہا ہے_تو کہیں تھلوں میں اُسکےنشاں بنے ہوۓ ہیں_
دسمبر جاتے ہوۓ ہمارے دوست کا چین بھی ساتھ لے گیا_
نجانے ایسے کیوں ہوتا ہے-
اس سوال کا شاید جواب کبھی نہ ڈھونڈ پاؤں_
رات دروازے کی دستک پہ دھیاں نہ دیا__،،،،
صبح پیروں کے نشاں دیکھے تو بہت روۓ___،،،!!!
آج بھی وہ شخص سرد راتوں میں شال اوڑھے کسی کی یاد میں بہت دور نکل
جاتا ہے-
اور سگریٹ کی طرح خود کو کسی کیلۓ ہمیشہ سلگتے چھوڑ دیا_
چھوڑ دیا_
بھلا جانے والے بھی لوٹا کرتے ہیں-
نادان پرندے گھر آجا!!!!

Sunday, February 22, 2015

baloch news


Education is the Noah’s ark of any nation, outside which is nothing but deluge. Every country tries to set a premium on establishing prestigious academic norms to compete with the global rat-race. Higher education matters and serves as a vigorous impetus to overall national development. It equips the budding generation with the high-tech weaponry of witticism and repertoire of up-to-date learning.
The prevailing scenario of the world endorses the foregoing. Advanced countries like Great Britain, Canada and the US have invested a lot on the dissemination of knowledge through higher studies. Almost all major universities cater to the uplift of educational standards. They exert to produce a large number of scholars seeking PhD’s and other types of higher studies in multifarious disciplines. The scholars strain every nerve to conduct their researches and thus considerably add to the existing corpora of information.
Our country however, is still lagging behind. A tiny percentage is set aside for education in the annual budget and it is insufficient to provide financial support to our scholars intending to pursue higher education in universities abroad.
As far as local universities are concerned, most of them are producing just raw material. Their pseudo lump research goes profitless. A close review of the prevailing setup brings the bitter fact to light that most research thesis/papers are merely a rephrasing of original research work. Such activity is a filthy smudge on the fair front of higher education.
The vicious practice of bogus lump research impedes the path of a nation’s growth. The intellectual dishonesty is a curse. Genuine research is being rephrased so cunningly and skilfully that plagiarism is hardly discernible. Most supervisors suspend their disbelief and take them for original attempts. These theses are bereft of generalizability, testability and predictability. This detestable blackmailing is ganging ground even in advanced countries like America and it is mostly because of non-accredited private universities mushrooming there. In our country, researchers do not feel shy in stealing or buying the material of their theses from those who have expertise in rephrasing not only the style of writing but also of the ideas. Their prime objective is nothing but amassing lucre by fair or foul means. It is not wide off the mark to mention the case of one of my friends. His thesis showed 58% plagiarism. His supervisor directed him to reduce it to 19%. Next time he brought it down to zero percentage. He was redirected to raise it a bit to avoid suspicion. He felt no problem in setting it to 7%. Thus, the content can be comfortably engineered to align plagiarism to the “required” standard.
Another form of lump research is co-authoring. Sometimes, two or three researchers co-write an article. Usually, there is only one genuine scholar. It entails an unfortunate turn of affairs when the co-writer happens to be a junior member of staff. The senior member remains at ease, doing nothing. The entire research work is done by the junior. How can a junior member take a bold step to claim his lion’s share? Then there are the ones supervising the research project or thesis of a group of students. They borrow the data of this novice research and easily chisel the material to write an article dubbing it to their own credit.
Proxy researchers brazen out readymade material from the website. They plagiarize not only the form but also the content of what they have designed to research about. It is easy for them to modify the given text to their own vested interests and get it published in their name. During the last decade, such research has surged up to engage public attention. These practices reek of intellectual dishonesty and humiliate the entire premise of higher education.
This specific malady can be remedied by stringent measures of the HEC (Higher Education Commission). Those scholars who copy the material from the genuine source and mould it to claim it as their own, deserve no pity. They must be penalized so that their punishment might serve as an eye-opener for others. At the same time, supervisors and external examiners appointed for review and the defence of theses, must be taken to task for their negligence and indifference to their assigned responsibility.
Apropos of the above mentioned, the universities have an obligation to enjoin upon their teaching faculty to make every possible effort to promote genuine research activities amongst the students.

The writer is Head of the English Department, Minhaj University Lahore.

Tuesday, January 13, 2015

baloch news



ہمایت کی بات نہیں، بیرسٹر امام بخش قیصرانی ہمارہ اپنا 


امیدوار ہے، تمام کارکنان جمعت پر فرض ہے دن رات ایک 


کر دیں اور PP 240 سے سردار امام بخش کو فتح یاب 


کروایں۔۔اس حلقہ کو اب نظر انداز نہیں ہونے دیں گے، یہاں 



سے ظلم کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔۔۔قائدِ جمعت حضرت 



مولانا فضل الرحمٰن

Monday, January 12, 2015

baloch news

تونسہ میں ایک بار پھر ڈاکو راج۔۔۔۔



ٹریبل ایریا تھمن قیصرانی بروٹ مندوانی میں ڈاکوں نے گزشتہ رات سرکاری 


ہسپتال کی عمارت کا گاڈر اور ٹی یر بھی اتار کر لے گے ،، بی ایم پی پولیس کو 


معلوم بھی نہیں ۔۔۔مقامی لوگوں کی ڈی سی او ۔ڈی جی خان سے اپیل

Saturday, January 10, 2015

baloch news

پی ٹی آئی کل اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی ‘ذرائع







Friday, January 9, 2015

baloch news

میرپورخاص: محمودآباد کے علاقے میں پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ڈاکو چھوٹو ناریجو 4 ساتھیوں سمیت ہلاک جب کہ 2 ایس ایچ اوز سمیت 4 پولیس اہلکار جاں بحق اور ایک ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
ایس ایس پی حیدرآباد عرفان علی بہادرنے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب میر پور خاص کے علاقے محمود آباد میں ڈاکوؤں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر حیدرآباد اور مقامی پولیس کے 2 درجن سے زائد تھانوں کی نفری نے مشترکہ آپریشن شروع کیا جو صبح تک جاری رہا۔ مقابلے میں بدنام زمانہ ڈاکو چھوٹو ناریجو 4 ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا جب کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے حیدر آباد کے 2 ایس ایچ او وائس بخش لغاری اور حسن عابدی سمیت 4 پولیس اہلکار بھی جاں بحق اور ایک ایس ایچ او ممتاز بروہی اور 3 پولیس اہلکار احسان علی، حسنین علی اور وارث بھٹو زخمی بھی ہوئے۔ مقابلے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر سول اسپتال حیدر آباد منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز کے مطابق ایس ایچ او ممتاز بروہی کی حالت تشویشناک ہے جب کہ دیگر اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکو پورے سندھ میں اغوا برائے تاوان، قتل، اقدام قتل سمیت سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث تھے جب کہ ڈاکوؤں کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا 

Thursday, January 8, 2015

Points of Chairman PTI Imran Khan's Press Conference (January 6, 2014)


Points of Chairman PTI Imran Khan's Press Conference (January 6, 2014)



NA 122
  1. Over 30,000 bogus votes were cast which did not have neither the stamp, nor the signature of the Presiding officer on the counterfoil
  2. 100 polling stations did not have Form 14 and Form 15 in the bags.
  3. Different colored ballot papers were found in 25 polling stations. Papers are of different size also
  4. Ballot papers with same serial numbers have also been found which shows thousands are bogus
  5. The serial number of ballot paper books issued by RO and those found from the polling bags were different in 5 polling stations.
  6. In 9 polling stations counter foil count was less and ballot papers were more
  7. In Polling station # 97 two different attested results were issued by the same RO.
NA 154
  1. Over 49,000 bogus votes were cast which did not have neither the stamp, nor the signature of the Presiding officer on the counterfoil
  2. 67 polling stations did not have voter list (which has indicator of who has cast ballot)
  3. In 57 polling stations form 15 is missing
  4. NADRA report says 20601 invalid NIC numbers on counterfoil

PTI will not allow such intimidation and fascist tactics by the govt to mute the independent media: Imran Khan


PTI will not allow such intimidation and fascist tactics by the govt to mute the independent media: Imran Khan 



Chairman PTI, Imran Khan, today condemned the arbitrary strong arm tactics of the Govt when it used the Competition Commission to raid the PBA office in Karachi yesterday, 6th January, without any warning or notice.
The unethical confiscation of the PBA data and immediate flying it out to Islamabad. This is clearly aimed at intimidating the media and penalising it for its coverage of the PTI Azadi March and Dharna and exposing the govt's use of advertising to block this coverage - which failed.
The Chairman made clear that PTI will not allow such intimidation and fascist tactics by the govt to mute the independent media.??

baloch news

عمران خان اور ریحام خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔

baloch news


ممبر پنجاب اسمبلی خواجہ محمد نظام المحمود عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس وطن پہنچ گئے ہیں
تونسہ شریف (نامہ نگار ) ممبر پنجاب اسمبلی خواجہ محمد نظام المحمود عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس وطن پہنچ گئے ہیں
خواجہ محمد نظام المحمود فخری کی عمرہ کی ادائیگی پر عوامی ‘سماجی اور سیاسی حلقوں نے انہیں مبارکباد پیش کی ہے

Saturday, January 3, 2015

baloch news


ممتاز بھٹو نے ن لیگ کا جعلی ٹکٹ پیش کیا ‘ذرائع

تونسہ شریف(نامہ نگار) ممتاز بھٹو نے ن لیگ کا جعلی ٹکٹ پیش کیا ‘ذرائع تفصیل کے مطابق حلقہ پی پی 240کے امیدوار سردار ممتاز احمد بھٹو کو ن لیگ کی ٹکٹ مل گئی ذرائع نے بتایا کہ خواجہ داؤد سلیمانی نے الیکشن کمشن ڈیرہ میں بحث جاری ہے جلد ہی اس معاملہ پر ن لیگی رہنماؤں سے رابطہ کر کے حل نکل آئے گا

baloch news


ممتاز خان بھٹو کوشیر کا ٹکٹ ملنے پر کونسلر عبدالستار عیسانی نے مٹھائی تقسیم کی

ٹبی قیصرانی (غلام مصطفیٰ) ممتاز خان بھٹو کوشیر کا ٹکٹ ملنے پر کونسلر عبدالستار عیسانی نے مٹھائی تقسیم کی تفصیلات کے مطابق سردار ممتاز خان بھٹو جو کہ میرگروپ کی طرف سے امیدوار بتائے جاتے ہیں سردار ممتاز خان بھٹو کو شیر کا ٹکٹ ملنے پر ٹبی قیصرانی میں سابق کونسلر عبدالستار خان عیسانی نے اپنی دکان میں مٹھائی تقسیم کی اس موقع پر اورنگزیب خان قیصرانی ایڈوکیٹ ‘ سردار مرتضیٰ خان قیصرانی ‘ محمد اشرف خان قیصرانی ‘ قاسم خان قیصرانی ‘عبدالشکور خان قیصرانی ‘محمد جمال خان قیصرانی ‘ محمد حنیف خان ‘ محمد شریف خان قیصرانی ‘ عابد حسین ‘اعجاز حسین عرف تحصیلدار اور مشتاق خان قیصرانی نے شرکت کی ۔

Friday, January 2, 2015

baloch news

                taunsa police ka jarnal hold ap 
 tafcel taunsa shareef thana city police ny tamer e now ekadmi ka sath naka bandi ki aur any jany waly har gari  ko chaik kia aur bghr nambar waly motr caiycal pary jan ko bad man thana ly gy                                                                                            

Thursday, January 1, 2015

baloch news


شمعونہ عنبرین نااہل ‘خواجہ داؤد کے خلاف دی جانے والی درخواست مسترد

شمعونہ عنبرین نااہل ‘خواجہ داؤد کے خلاف دی جانے والی درخواست مسترد
شمعونہ عنبرین نااہل ‘خواجہ داؤد کے خلاف دی جانے والی درخواست مسترد
شمعونہ عنبرین نااہل ‘خواجہ داؤد کے خلاف دی جانے والی درخواست مسترد
تونسہ شریف (نامہ نگار)شمعونہ عنبرین کی نااہلی ہائی کورٹ ملتان بنچ کے فیصلے کے بعد کلمہ چوک میں خواجہ داؤد سلیمانی کے حامیوں نے مٹھائی تقسیم کی تفصیل کے مطابق ہائی کورٹ ملتان بنچ نے خواجہ داؤد سلیمانی کی درخواست پر شمعونہ عنبریں کو حلقہ پی پی 240میں الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دیا جبکہ شمعونہ عنبرین کی درخواست کومسترد کر دیا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ خواجہ داؤد سلیمانی حکومتی نادہندہ ہے اور بی اے تعلیم نہیں ہے ۔

baloch news

تونسہ شریف کے کلمہ چوک میں مٹھائی تقسیم ‘عوام کی بددعائیں ہی میر گروپ کو کیفرکردار تک پہچائیں گی ‘طفیل نیازی ‘محمد 


تونسہ شریف کے کلمہ چوک میں مٹھائی تقسیم ‘عوام کی بددعائیں ہی میر گروپ کو کیفرکردار تک پہچائیں گی ‘طفیل نیازی ‘محمد شفیق

تونسہ شریف کے کلمہ چوک میں مٹھائی تقسیم ‘عوام کی بددعائیں ہی میر گروپ کو کیفرکردار تک پہچائیں گی ‘طفیل نیازی ‘محمد شفیق
تونسہ شریف کے کلمہ چوک میں مٹھائی تقسیم ‘عوام کی بددعائیں ہی میر گروپ کو کیفرکردار تک پہچائیں گی ‘طفیل نیازی ‘محمد شفیق
تونسہ شریف(نامہ نگار) خواجہ داؤد سلیمانی کی طرف سے کی جانے والی اپیل پر شمعونہ عنبرین کے نااہلی کے فیصلہ پر خواجہ داؤد سلیمانی کے حامیوں نے کلمہ چوک میں مٹھائی تقسیم کی اس موقع پر خواجہ داؤد سلیمانی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے عوام کو پسماندہ رکھنے والوں کی اللہ تعالیٰ نے سن لی ہے انشاء اللہ جیت حق کی ہوگی اور عوام کو پسماندہ رکھنے والوں کو کیفرکردار تک عوام کی بددعائیں ہی پہنچائیں گی

Monday, December 29, 2014

baloch news

سیکورٹی کو سخت کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ‘سردار عرفان اللہ خان کھوسہ




سیکورٹی کو سخت کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ‘سردار عرفان اللہ خان کھوسہ
وہوا(نامہ نگار)بین الصوبائی بارڈر پر سیکورٹی انتظامات سخت کیئے جا چکے ہیں،عرفان فاروق کھوسہ۔تفصیل کے مطابق ڈی ایس پی تونسہ سرکل عرفان فاروق کھوسہ نے دورہ تھانہ وہوا اور بلوچ لیوی،بارڈر ملٹری پولیس اہلکاروں سمیت معززین علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں جرائم کا خاتمہ عوام کے تعاون سے ممکن ہے انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی بارڈر ہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جا چکے ہیں اور داخلی خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل بھی جاری ہے،ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی ادارے اگر اپنا تعاون آپس میں جاری رکھیں تو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا سکتی ہے اس موقع پر معززین سردار سمیع اللہ کھتران،سردار نوید خان کھتران،سردار طفیل خان کھتران،ملک اللہ نواز آرائیں ،سردار عارف خان کھتران،سردار رفیع اللہ کھتران،یاسر محمود سنیاسی کھتران،صفدر نعیم،نور خان پٹھان و دیگر موجود تھے۔
غیر قانونی ڈیزل ایجنسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن
وہوا(نامہ نگار)غیر قانونی ڈیزل ایجنسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری،تفصیل کے مطابق تھانہ وہوا میں محمد صدیق،محمد اشرف مولوی،رحیم بخش کے خلاف غیر قانونی ڈیزل ایجنسی فروخت کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے کارروائی کی گئی ،اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ وہوا یوسف لاشاری نے کہا کہ پیڑول،ڈیزل کی غیر قانونی فروخت کے عمل کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں چھاپے جاری ہیں۔

baloch news

دیوان پٹرولیم کے خلاف بلوچ نوجوانوں کے پرامن دھرنے سے اپنا حق حاصل کیا ‘طاہر جان


دیوان پٹرولیم کے خلاف بلوچ نوجوانوں کے پرامن دھرنے سے اپنا حق حاصل کیا ‘طاہر جان
دیوان پٹرولیم خلاف 24دن تک پرامن دھرنے نے اپنے جمہوری وآئینی حق حاصل کر لیا ان خیالات کا اظہار بی ایس او پجار کے رہنماطاہر جان قیصرانی نے کیا انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں نے ثابت کر دیا کہ پر امن طریقے سے ہر مسئلے کا حل موجود ہے انہوں نے مزید کہا کہ بے سودہ بیساکھیوں کے بغیر بھی ہم اپنا حق لے سکتے ہیں اگر ہم منظم ہوں تو ہم اپنے خیالات کا اظہار بڑے اچھے طریقے سے اعلیٰ حکام تک پہنچا سکتے ہیں اس لئے ہمیں مزید منظم ہونا پڑے گا 



baloch news


مطالبات تسلیم ‘قبائلیوں کا دھرنا ختم ‘روڈو آئل فیلڈ سے تیل او رگیس کی سپلائی بحال

مطالبات تسلیم ‘قبائلیوں کا دھرنا ختم ‘روڈو آئل فیلڈ سے تیل او رگیس کی سپلائی بحال
تونسہ شریف(خبرنگار) بلوچوں کے مطالبات تسلیم تفصیل کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے جاری دیوان پٹرولیم کے سامنے حقوق کی بحالی کیلئے دیئے جانے والے دھرنے کے شرکاء سے دیوان پٹرولیم نے مذاکرات کئے جس میں پی اے شاہد محبوب ‘رسالدار خرم کھوسہ ‘ اظہر خان ٹیپو اور عظمت شیر قیصرانی اور دیوان کا نمائندہ پرویز اقبال اور بلوچ رہنماؤں ذوالفقار بلوچ ‘غلام یٰسین ‘غلام رسول ‘محمد یونس اور عبدالرحمان بزدار نے شرکت کی 16فروری والے معاہدے کی ضلعی انتظامیہ نے ذمہ داری اٹھائی تھی جس پر دیوان پٹرولیم نے عرصہ گزرنے کے باوجود مطالبات منظورنہیں کئے تھے لیکن گزشتہ رات بلوچوں کے ساتھ مذاکرات طے پاگئے جس میں 16فروری میں کئے جانے والے معاہدوں پر ایک ماہ میں عملدرآمد پایا جائے گا پندرہ نوکریاں ‘کوسٹر بچوں کیلئے ‘ ڈسپنسری ‘ چاردیواری کا معاوضہ ‘ پانی کی سپلائی ‘ گیس کی سپلائی ‘20سولر ‘ پٹرولیم پالیسی کے مطابق 50فیصد نوکریاں دی جائیں ایک ماہ کے اندر تمام معاملات طے پاجائیں گے ورنہ دوسری میٹنگ27جنوری کو ہوگی جس میں جائزہ لیا جائے گا کہ اس معاہدے پر عملدرآمد ہوا ہے