Powered By Blogger

Thursday, January 7, 2016

ٹبی قیصرانی۔ غیرت کا تقاضا? بھائی نے بہن پر کلہاڑیاں چلا دیں




ٹبی قیصرانی۔ غیرت کا تقاضا? بھائی نے بہن پر کلہاڑیاں چلا دیں

تونسہ شریف( سپیشل رپورٹر)تونسہ شریف کے بستی بلچانی میں بھائی نے غیرت کے نام پر بہن پر کلہاڑیاں چلا دیں۔ زخمی حالت میں ہسپتال داخل۔ بھائی فرار۔ میرے ملزم گرفتار نہ کئے گئے تو عدالت کے سامنے خود سوزی کروں گی، میری تصویر شائع نہ کریں ، خبریں کو مضروبہ صفیہ نے بیان ریکارڈ کر لیا۔ ریتڑہ پولیس کی وارثان کی خواہش پر صلح کی کوشش، ہیومن رائٹس کے کارکنان کی جانب سے واقعے کی مذمت ، ملزم کو گرفتار کیا جائے۔ تفصیلات کیمطابق دو روز قبل بستی بلچانی نے گھر میں بیٹھی بہن پر کلہاڑیاں چلا دیں ، جسے ریسکیو کے مقامی اہلکاروں کی مداخلت پر ٹبی قیصرانی کے رورل ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ۔ کلہاڑی اس کے سر اور پاوں پر ماری گئیں ۔ جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ مضروبہ صفیہ بی بی نے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھی کام کر رہی تھیں کہ اچانک اسکا بھائی منیر آیا اور اس پر کلہاڑیاں چلا دیں۔ اور کہا کہ اس کہ تصویر اسے کسی نے دکھایا ہے اور اسے جان سے مار دیں گی۔اس کی ساس نے شور مچایا تو لوگ آئے اور اسے چھوڑ کر وہ بھاگ گیا۔ صفیہ بی بی نے کہا
کہ اس کے گھر کے افراد اس کے بھائی باپ اب غیرت کے نام پر اس کے جان کے دشمن بن گئے ہیں وہ انہیں کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔ اگر پولیس نے ان کے خلاف ان کی درخواست پر کاروائی نہیں کی تو وہ ٹھیک ہونے کے بعدعدالت کے سامنے خود سوزی کریں گی۔ انہوں نے کہا اس کی تصویر اخبار میں شائع نہ کریں کیونکہ پہلے ہی شاید اس کی تصویر کسی نے بنا کر اس کے بھائیوں کو اس کے جان کا دشمن بنا دیا۔ مضروبہ کی ساس الف نے بتایا کہ وہ گھر میں تھی کہ صفیہ کا بھائی آیا اور اس پر کلہاڑیاں چلا دیں اور کہا اس کی تصویر اسکے کسی دوست نے دکھائی ہے وہ اسے جان سے مار دیگا۔ شور پر لوگوں نے مضروبہ کو بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکا بیٹا بھولا بھالا ہے۔ اسکی بہو بھی سیدھی سادی بے گناہ ہے اس کے بھائی نے اس پرک لہاڑیاں چلا کر اچھا نہیں کیا وہ غریب لوگ ہیں ۔ پولیس کوئی کاروائی نہیں بلکہ صلح پر زور دے رہی ہے۔ انہیں اس کے بھائیووں اور باپ کے رویے باعث شدید خطرہ ہے۔ وہ اسے جان سے مار سکتے ہیں اور پولیس کاروائی سے گریزاں ہے۔ ڈاکٹر ساجد خان نے بتایا کہ زخم شدید ہیں لیکن حالت خطرے سے باہر ہے ۔ تفتیشی تھانہ ریتڑہ غفار خان قانونی نے بتایا کہ لڑکی کے والدیں آپس میں صلح کر رہے ہیں اور اس سلسے میں تھانہ کا وائرلیس آپریٹر بھی کردار ادا کر رہا ہے جو ان کی بستی کا ہی ہے۔ آپ میدیا کے لوگ اس واقعے کو دفن کر دیں اور کسی کے گھر کے واقعے کو اچھالنے سے گریز کریں تو بہتر ہے۔ جبکہ ایس ایچ اور افتخار قریشی نے اپنے موقف میں کہا کہ اس کیس کو تفتیشی غفار خان ڈیل کر رہے ہیں وہ میرٹ پر تفتیش کریں گے
مضروبہ کے والد غلام رسول، دوسرے بھائی شبیرنے خبریں کو بتایا کہ وہ اسکے جان کے دشمن نہیں ہیں وہ بیٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اب اس معاملے کو یہی ختم کرے ۔ اس کے بھائی منیر کو کسی نے غلط تصویر دکھا کر اس اقدام پر ا بھارا۔ وہ بھی منیر کو سزا دلوانے کے حق میں ہیں۔ اور گارنٹی دیتے ہیں کہ اب اسے کچھ نہیں کہا جائیگا۔ ہیومن رائیٹس کے راہنماوں ذولفقار بلوچ اور غضنفر عباس ہاشمی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور ہسپتال میں مضروبہ سے ملاقات کی اور ہر قسم کی قانونی کاروائی کی یقین دہانی کرائی انہوں نے ریتڑہ پولیس کے رویہ کی بھی مذمت کی کہ دوروز کے بعد بھی واقیعے کی مقدمہ درج نہ کیا جانا زیادتی ہے ۔ انہوں نے آئی جی پنجاب سے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

No comments:

Post a Comment